تلاطم ہے یہ کیسا آنسوئوں کا دیدۂ تر میں
ہجوم شوق کیسا انتظارِ کوئے دلبر میں
تجسس کروٹیں کیوں لے رہا ہے قلب مضطر میں
یہ بحثیں ہورہی ہیں میرے دل میں پہلو و بر میں
مدینے تک پہنچ جاتا کہاں طاقت تھی یہ پر میں
مدینے کی وہ مرگ جانفزا گر ہے مقدر میں
جو تو اے طائر جاں کام لیتا کچھ بھی ہمت سے
اجالے میں گمے ہوتے تجلی گاہِ سرور کے
نہ رکھا مجھ کو طیبہ کی قفس میں اس ستم گر نے
ستم سے اپنے مٹ جائو گے تم خود اے ستمگارو!
گذر گاہوں میں ان کی میں بچھاتا دیدہ و دل کو
بناتے جلوہ گاہِ ناز میرے دیدہ و دل کو
مدینے سے رہیں خود دور اُس کو روکنے والے
— Mufti Akhtar Raza Khan Qadri Azhari\
