کروں دم بدم میں ثنائے مدینہ
خدا کی قسم! پیاری پیاری ہے جنَّت
جہاں کے نظارے ہوں آنکھوں سے اَوجھل
کِھلا دے کلی میرے مُر جھائے دل کی
جسے چاہیئے دونوں عالم کی دولت
عِنایت سے اللہ کی رَحمتوں کا
پئے پیرومرشد تُو فرما دے روشن
شَفاعت کی خیرات کا جو ہے طالب
نہ دے یاالٰہی! مجھے تختِ شاہی
شب و روز جلوے ہیں ماہِ عرب کے
تجھے واسِطہ غوث و احمد رضا کا
بقیعِ مبارک میں مدفن عطا ہو
مِری خاک جس دم اُڑے یاالٰہی
پڑوسی بنا مجھ کو جنّت میں اُن کا
لگا فجر میں بھائی گھر گھر پہ جا کر
جو دے روز دو ’’درسِ فیضانِ سنّت‘‘
سفر جو کرے قافِلوں میں مسلسل
جو پابند ہے اجتماعات کا بھی
جو نیکی کی دعوت کی دھومیں مچائے
زباں پر جو ’’قفلِ مدینہ‘‘ لگائے
جو آنکھوں پہ قفلِ مدینہ لگائے
جو دیوانے فُرقت میں روتے ہیں آقا
دے سوزِ جگر چشمِ تر قلبِ مُضطَر
یہ عطار مکّے سے زندہ سلامت
— Muhammad Ilyas Atar Qadri\
