سلطانِ جہاں محبوبِ خدا تری شان و شوکت کیا کہنا
ہے سرپر تاج نبوت کا جوڑا ہے تن پہ کرامت کا
اِنَّا اَعْطَیْنٰکَ الْکَوْثَرفرمائے ترے حق میں داوَر
معراج ہوئی تا عرش گئے حق تم سے ملا تم حق سے ملے
حوروں نے کہا سُبْحٰنَ اللہ غلماں نے پکارا صَلَّی اللہ
قرآن کلام باری ہے اور تیری زباں سے جاری ہے
باتوں سے ٹپکتی لذت ہے آنکھوں سے برستی رحمت ہے
سب مثلِ ہتھیلی پیشِ نظر ہر غیب عیاں ہے سینے پر
ہو حسن نبی کی کیسے صفت جس کی ہے خدا کو بھی چاہت
ہر ذَرَّہ ترا دیوانہ ہے ہر دل میں ترا کاشانہ ہے
صدیق و عمر عثمان و علی اور ان کے سوا اَصحابِ نبی
صدیق ہیں جان صداقت کی فاروق ہیں شان عدالت کی
دو پھول بتولی گلشن کے اِک سبز ہوئے اِک سرخ ہوئے
گیسوئے کرم کھل جائیں اگر رحمت کی گھٹا برسے جم کر
آنکھوں سے کیا دَریا جاری اور لب پہ دُعا پیاری پیاری
عالم کی بھریں ہر دَم جھولی خود کھائیں تو بس جو کی روٹی
شہرت ہے جمیلؔ اتنی تیری یہ سب ہے کرامت مرشد کی
— Jamil Ur Rehman Qadri\
