گناہوں سے مجھ کو بچا یاالٰہی
خطاؤں کو میری مٹا یاالٰہی
مُطِیع اپنا مجھ کو بنا یاالٰہی
تجھے واسِطہ سارے نَبیوں کا مولٰی
غمِ مصطَفٰے دے غمِ مصطَفٰے دے
میں عشقِ نبی میں رہوں گُم ہمیشہ
مدینے کی مستی رہے مجھ پہ چھائی
دِکھا ہر برس تُو حرم کی بہاریں
شَرَف ہر برس حج کا پاؤں خدایا
جو روتے ہیں ہجرِ مدینہ میں اُنکو
زَبان اور آنکھوں کا قُفلِ مدینہ
تُو مرشد کے صدقے دِوانہ بنا دے
مجھے سُنِّیَتپر تُو دے استِقامت
تُو اَنگریزی فیشن سے ہردم بچا کر
مُطِیع اپنے مُرشِد کا مجھ کو بنادے
مُطِیع اپنے ماں باپ کا کر میں انکا
سدا پیرومرشِد رہیں مجھ سے راضی
بنادے مجھے ایک در کا بنادے
تجھے واسِطہ سیِّدہ آمِنہ کا
مجھے مال و دولت کی آفت نے گھیرا
نہ دے جاہ وحَشمت نہ دولت کی کثرت
مجھے غیبت و چغلی و بدگمانی
یہ دل گورِ تِیرہ سے گھبرا رہا ہے
بقیعِ مبارک میں تدفین میری
تُو عطارؔ کو چشمِ نَم دے کے ہر دم
— Muhammad Ilyas Atar Qadri\
