لاج رکھ میرے دستِ دُعا کی
اپنی رَحمت کی اپنی عطا کی
قلب میں یاد تیری بسی ہو
مستی و بے خودی اور فَنا کی
کرنا رَحمت خدا مجھ پہ اپنی
دائمی اور حتمی رِضا کی
نَفْس نے لذَّتوں میں پھنسایا
دل سے چاہَت مِٹا ماسِوا کی
اَزپئے غوثِ اعظم ولایت
اپنی، اپنے نبی کی وِلا کی
حال عاصی کا بے حد بُرا ہے
عَفوِ جُرم و قُصُور و خطا کی
میں گناہوں میں لتھڑا ہوا ہوں
عَفوِ جُرم و قُصُور و خطا کی
ہے یہ تسلیم سب سے بُرا ہوں
عَفوِ جُرم و قُصُور و خطا کی
ہو کرم از طفیلِ مدینہ
عَفوِ جُرم و قُصُور و خطا کی
بات عِصیاں سے میں نے بگاڑی
لُطف و رَحمت کی عَفو و عطا کی
تیرے ڈر سے سدا تھر تھراؤں
کیف ایسا دے، ایسی ادا کی
مکرِ شیطان سے تو بچانا
نَزع میں دیدِ بدرُ الدُّجٰی کی
پھر عرب کی حسیں وادیاں ہوں
مجھ کو دیدارِ ثور و حِرا کی
دیدے پردہ بہو بیٹیوں کو
ہم سبھی کو حقیقی حیا کی
اب تک اولادسے جو ہیں محروم
— Muhammad Ilyas Atar Qadri\
