مُعاف فضل و کرم سے ہو ہر خطا یارب
بِلا حساب ہو جنّت میں داخِلہ یارب
نبی کا صَدقہ سدا کیلئے تُو راضی ہو
ترے حبیب اگر مُسکراتے آ جائیں
خَزاں پھٹک نہ سکے پاس، دے بہار ایسی
ہمارے دل سے نکل جائے الفتِ دنیا
نبی کی دید ہماری ہے عید یااللہ
ترے حبیب کی سنّت کی دھوم مچ جائے
مِری زُبان پہ’’ قفلِ مدینہ‘‘ لگ جائے
اُٹھے نہ آنکھ کبھی بھی گناہ کی جانب
کسی کی خامیاں دیکھیں نہ میری آنکھیں اور
تُلیں نہ حَشر میں عطّارؔ کے عمل مولیٰ
— Muhammad Ilyas Atar Qadri\
