الہام کی رم جھم کہیں بخشش کی گھٹا ہے
سانسوں میں مہکتی ہیں مناجات کی کلیاں
آیات کی جھرمٹ میں تیرے نام کی مسند
خورشید تیری راہ میں بھٹکتا ہوا جگنو
ولیل تیرے سایہ گیسو کا تراشا
رگ رگ نے سمیٹی ہے تیرے نام کی فریاد
خالق نے قسم کھائی ہے اُس شہراماں کی
اک بار تیرا نقشِ قدم چوم لیا تھا
سورج کو ابھرنے نہیں دیتا تیرا حبشی
ثقلین کی قسمت تیری دہلیز کا صدقہ
اترے گا کہاں تک کوئی آیات کی تہہ میں
اب اور بیاں کیا ہو کسی سے تیری مدحت
اے گنبدِ خضریٰ کے مکین میری مدد کر
بخشش تیری آنکھوں کی طرف دیکھ رہی ہے
— Mohsin Naqvi\
