Na Kyun Araishain Karta Khuda (Naat) | Best Naat Lyrics in Urdu | Naat Lines

نہ کیوں آرائشیں کرتا خدا دنیا کے ساماں میں

یہ رنگینی یہ شادابی کہاں گلزارِ رِضواں میں

خزاں کا کس طرح ہو دخل جنت کے گلستاں میں

تم آئے روشنی پھیلی ہوا دن کھل گئی آنکھیں

تھکا ماندا وہ ہے جو پاؤں اپنے توڑ کر بیٹھا

تمہارا کلمہ پڑھتا اُٹھے تم پر صدقے ہونے کو

عجب اَنداز سے محبوبِ حق نے جلوہ فرمایا

فدائے خار ہائے دشتِ طیبہ پھول جنت کے

ہر اِک کی آرزو ہے پہلے مجھ کو ذبح فرمائیں

ظہورِ پاک سے پہلے بھی صدقے تھے نبی تم پر

کلیم آسا نہ کیونکر غش ہوں ان کے دیکھنے والے

ہوا بدلی گھرے بادل کھلے گل بلبلیں چہکیں

کسی کو زندگی اپنی نہ ہوتی اس قدر میٹھی

اُسے قسمت نے اُس کے جیتے جی جنت میں پہنچایا

کیا پروانوں کو بلبل نرالی شمع لائے تم

نسیم طیبہ سے بھی شمع گل ہو جائے لیکن یوں

اگر دُودِ چراغِ بزمِ شہ چھو جائے کاجل سے

کرم فرمائے گر باغِ مدینہ کی ہوا کچھ بھی

چمن کیونکر نہ مہکیں بلبلیں کیونکر نہ عاشق ہوں

یہاں کے سنگریزوں سے حسنؔ کیا لعل کو نسبت

— Hassan Raza Khan Barelvi\