مدینے ہمیں لے گیا تھا مقدَّر
نہ ہم کاش! آتے یہاں لوٹ کر گھر
وہاں بارِشِ نور ہوتی تھی پَیہم
ملا تھا ہمیں قُربِ محبوبِ داور
خوشی بھی خوشی سے وہاں جھومتی تھی
مزہ بھی مزے لے رہا تھا وہاں پر
کبھی رُوبرو سبز گنبد کا منظر
وہاں راہ چلتے تھے ہم دست بستہ
کبھی بیٹھتے اُن کی مسجِد میں جا کر
فَضائیں مُنوَّر ہوائیں مُعَطَّر
مدینے کا صحرا بھی رشکِ گُلستاں
کبھی مست ہو کر شجر جھومتے تھے
وہاں تو اندھیرے میں بھی روشنی ہے
خوشا! دھوپ تھی ٹھنڈی ٹھنڈی وہاں پر
یقینا مدینہ ہے صد رشکِ جنّت
— Muhammad Ilyas Atar Qadri\
