مرحَبا آج چلیں گے شہِ اَبرار کے پاس
پیش کرنے کیلئے کچھ نہیں بدکار کے پاس
مل چکا اِذن،مبارَک ہو مدینے کا سفر
خوب رو رو کے وہاں غم کا فَسانہ کہنا
میں گنہگار گناہوں کے سِوا کیا لاتا
سر بھی خَم آنکھ بھی نَم ،شَرم سے پانی پانی
آنکھ جب گنبدِ خَضرا کا نظارہ کرلے
عرصۂ حَشر میں جب روتا بِلکتا دیکھا
مجرِمو! اتنا بھی گھبراؤ نہ مَحشر میں تم
دونوں عالَم کی بھلائی کا سُوالی بن کر
شاہِ والا یہ مدینے کا بنے دیوانہ
اپنا غم چشمِ نَم اور رقّتِ قَلبی دیجے
اُلفتِ ناب ملے اور دلِ بے تاب ملے
حسنِ اَخلاق ملے بھیک میں اِخلاص ملے
ازپئے غوث ورضا ’’قُفلِ مدینہ‘‘ مل جائے
استِقامت اِسے ایماں پہ عطا کر دیجے
ہے مدینے میں شہادت کا یہ منگتا مولٰی
قَبْر و مَحشر میں اَماں کا ہے طلبگار حُضُور
نارِ دوزخ سے رِہائی کا ملے پروانہ
اِس کو جنّت میں جَواراپنا عطا ہو داتا
آپ سے آپ ہی کا ہے یہ سُوالی آقا
قبر میں یوں ہی نکیرو! نہیں آیا ان کی
— Unknown
