مجھے ہر سال تم حج پر بلانا یارسولَ اللہ
رہے ہر سال میرا آنا جانا یارسولَ اللہ
مِری آنکھوں میں تم ہر دم سمانا یارسولَ اللہ
نہ دولت دو نہ دو کوئی خزانہ یارسولَ اللہ
نظر بھر کر شہا! میں دیکھ لوں پھر گنبدِ خضرا
دوا کے واسِطے بیمارِ عِصیاں در پہ حاضِر ہے
نُقُوشِ الفتِ دنیا مرے دل سے مٹا دینا
سلیقہ آپ کی یادوں میں رونے کا تڑپنے کا
پئے غو ثُ الوَرا، احمد رضا، مرشد ضِیاء الدین
فِرِشتہ موت کا اب آچکا ہے رُوح لینے کو
کُھلے ہیں دفترِ اعمال! ہائے! میرا کیا ہوگا!
یہ گندا ہے نِکمّا ہے یہ جیسا ہے تمہارا ہے
— Unknown
