کیونکر نہ ہو مکے سے سوا شانِ مَدینہ
مَکے کو شرف ہے تو مَدینے کے سبب سے
ہوتا ہے فلک کا سرِ تسلیم یہاں خم
آتے ہیں سرِ عجز جھکائے ہوئے لاکھوں
بلبل کبھی بھولے سے نہ لے نام چمن کا
لاکھوں نے لگائے ہیں ترے کوچہ میں بستر
پہنچا دے تو محبوب کے دَر پر مجھے یارب
سمجھوں گا ہوئی عید مبارک مجھے جس دم
اِتراتی ہے کیوں بادِ صبا تو مرے آگے
سر دے کے غلامانِ نبی راہِ خدا میں
شاہانِ جہاں کانپتے ہیں نام سے تیرے
کیا وَصف کروں خوبیٔ اَخلاق کا اُن کے
سر سبز کسی کی بھی نہ ہو کشتِ تمنا
مخلوقِ خداوند ہے سب زیرِ حکومت
آرام سے ٹھہراتا ہے زَوَّارِ نبی کو
پیش آتے ہیں رحمت کے فرشتے بتواضع
ہوجائے جو سرکار کی رحمت کا اِشارہ
مرنے پہ بھی چھوڑیں گے نہ محبوب کا کوچہ
گھبرائیں گے سب مہر قیامت کی تپش سے
سبطین کی جب حشر میں آئے گی سواری
ہے عرضِ جمیلؔ رضوی کا یہ خلاصہ
عشاق یہ کہتے ہیں جمیلؔ رضوی کو
— Jamil Ur Rehman Qadri\
