مِرے مشتاقؔ کو کوئی دوا دو یارسولَ اللہ
طبیبوں نے مریضِ لادوا کہہ کہہ کے ٹالاہے
مرا مشتاق مولیٰ کب تلک تڑپے گا بے چارہ
مرے مشتاق کے اُجڑے چمن میں پھر بہار آئے
مرے مشتاقِ رنجیدہ پہ ہو چشمِ کرم آقا
کرم سے اب سرِ بالیں شہا تشریف لے آؤ
شِفا پا کر یہ نعتیں پڑھ کے پھر تڑپانے لگ جائے
شہا مشتاق کب تک دربدر کی ٹھوکریں کھائے
کرم کردو تَرَس کھاؤ دُکھی دل کی صدا سن لو
سنو یا مت سنو یہ رٹ لگائے جائیں گے ہم تو
فَقَط اَمراضِ جسمانی کی ہی کرتا نہیں فریاد
یہ پھر نیکی کی دعوت کے لئے دوڑے جہاں بھر میں
شہا مشتاق کو حج کی سعادت پھر عطا کردو
رِضا پر رب کی راضی ہیں تمھارے ہم بھکاری ہیں
گناہوں سے میں تو بہ کررہا ہُوں رہنا تم شاھِد
مجھے سکرات میں کلمہ پڑھا کر میٹھی میٹھی نیند
تمھاری یادمیں ہر دم تڑپتا ہی رہوں آقا!
مجھے اِذنِ مدینہ دو تمہیں صدقہ نواسوں کا
مری تاریک راتیں جگمگا دو ازپئے شَیخین
شہا عطارؔ کا پیارا ہے یہ مشتاق عَطّاری
اندھیری قبر میں عطّارؔ پر اب خوف طاری ہے
— Unknown
