مجھ کو پہنچا دے خدا احمد مختار کے پاس
جس کو دیکھو وہ اِسی دَر پہ چلا آتا ہے
بے طلب جس کو جو چاہیں وہ عطا کرتے ہیں
دولت و فضل و کرم نعمت و جاہ و اِقبال
بادشاہانِ جہاں دَست نگر ہیں ان کے
یہ محبت ہے کہ آوازِ اَغِثْنِی سن کر
دل پہ کندہ ہے ترا اِسمِ گرامی شاہا
یا خدا حشر ہے یا عید ہے مشتاقوں کی
یارسولِ عربی میری شفاعت کرنا
دیکھ کر روضۂ پرنور کو ایسا تڑپوں
ہے شہیدی کی طرح عرضِ جمیلؔ رَضوی
— Jamil Ur Rehman Qadri\
