مرحبا عزت و کمالِ حضور
ان کی قدموں کی یاد میں مریئے
دشتِ اَیمن ہے سینۂ مومن
آفرنیش کو ناز ہے جس پر
ماہ کی جان مہر کا ایماں
حسن یوسف کرے زلیخائی
وقف اِنجاحِ مقصد خدام
سکہ رائج ہے حکم جاری ہے
تابِ دیدار ہو کسے جو نہ ہو
جو نہ آئی نظر نہ آئے نظر
انہیں نقصان دے نہیں سکتا
حال سے کشف رازِ قال نہ ہو
دُرَّۃُ التَّاج فرقِ شاہی ہے
منزلِ رُشد کے نجوم اَصحاب
ہے مس قلب کے لئے اِکسیر
— Hassan Raza Khan Barelvi\
