نہ کیوں آج جھومیں کہ سرکار آئے
نہ کیوں بارہویں پر ہمیں پیار آئے
وہ آئے دو عالم کے مختار آئے
مَسرَّت سے ہم کیوں نہ دھومیں مچائیں
مسلمانو! صبحِ بہاراں مبارَک
مبارَک تجھے آمِنہ ہو مبارَک
مبارَک حلیمہ تجھے بھی مبارَک
مبارَک تمہیں غم کے مارو مبارَک
سُوال اپنی اُمّت کی بخشِش کا کرتے
یتیموں کے والی غریبوں کے حامی
مصیبت کے ماروں کی ڈھارس بندھانے
سیاہی ہمارے گناہوں کی دھونے
جہاں میں وہ سکّہ بٹھانے کو دِیں کا
نہ کیوں آج جشنِ ولادت منائیں
عَدَد ہم کو بارہ کا کیوں ہو نہ پیارا
گھٹا چھا گئی ہر طرف رحمتوں کی
چلو اے گداؤ!، چلو بے نواؤ
دُرُودوں کے گجرے لیے اب بڑھو تم
نہیں جن کی پیاری زُباں پر نہیں ہے
— Unknown
