حج کے اسباب آقا بنا دو
مژدۂ جاں فزا اب سنا دو
اپنے جلوے نظر میں بسا دو
حج کروں پھر مدینے میں آؤں
جھوم کر گردِ کعبہ پھروں میں
اپنے محراب و منبر کا در کا
خوب مکّے کی گلیوں میں گھوموں
مجھ کو عرفات کے بھی مناظر
ہجر طیبہ میں جو خوب روئیں
غم مدینے کا اور بے قراری
آخری دن مری عمر کے ہیں
کاش! قدموں میں آئے مجھے موت
دم نکلنے کی جاں سوز گھڑیاں
میری میّت پہ شاہِ مدینہ!
ہو بقیعِ مبارک میں تدفین
قبر میں گھپ اندھیرا ہے چھایا
گرمی حشر سے مضطرب ہوں
ہو گنہگار پر چشم رحمت
آہ! دوزخ کا حق دار ہوں میں
دو شفا ہر بدی کے مرض سے
سارے روحانی جسمانی امراض
میرے غم راحتوں سے بدل کر
ہو سدا رب کی رحمت کا سایہ
بولتا ہوں بہت تم زباں کا
نظریں جھکتی نہیں ہیں، نظر کا
حج کرے ہر برس کاش! عطارؔ
— Muhammad Ilyas Atar Qadri\
