کرم ہے خدا کا، خدا کی عطا ہے
کرم حاجیو! تم پہ کیسا ہوا ہے!
مبارک! شرف تم کو حج کا ملا ہے
خدا کے کرم سے بھری جھولیاں ہیں
سدا خفیہ تدبیر سے رب کی ڈرنا
بالآخر مدینے کو چھوڑ آئے حاجی
چھٹا آہ! کعبہ، چھٹا سبز گنبد
ہے ہجر مدینہ میں رنجیدہ کوئی
مدینے سے رخصت کا ایک ایک لمحہ
سکونِ دل و جاں مدینے کی گلیاں
مجھے چشم نم دو، مدینے کا غم دو
میں حج کرنے آؤں مدینہ بھی دیکھوں
خدا! ہر مسلماں کو حج و زیارت
وہ پھولا سماتا نہیں ہے خوشی سے
بھرا ہے گناہوں سے اعمالنامہ
گنہگار ہوں میں، سیہ کار ہوں میں
شرف پائے عطارؔ ہر سال حج کا
— Muhammad Ilyas Atar Qadri\
