ہے شَہد سے بھی میٹھا سرکار کا مدینہ
ہم کو پسند آیا سرکار کا مدینہ
ہر شہر سے ہے اچّھا سرکار کا مدینہ
بے کس کا ہے سہارا سرکار کا مدینہ
کُہسار دِلکُشا ہیں صحرا بھی دلرُبا ہیں
دونوں جہاں سے پیارا،کون ومکاں سے پیارا
جنّت کا حُسن سارا اِس میں سِمَٹ کر آیا
ہر سَمت رَحمتوں کی بَرسات ہورہی ہے
فُرقت کی آگ میں جو دِل کو جَلارہے ہیں
اے زائرِ مدینہ! دِل کو سنبھال لینا!
ہے لاکھ لاکھ مولیٰ ہر آن شکر تیرا
پُھولوں کو چُومتا ہوں ،کانٹوں کو چُومتا ہوں
جی چاہتا ہے میرا ہر شے یہاں کی چُوموں
میری نظر کو بَھائے دُنیا کا حُسن کیسے؟
اللہ! مُصطفٰے کے قدموں میں موت دیدے
عطّارؔ کی دعا ہے تقدیر میں خدایا
— Unknown
