ہم رسولِ مَدَنی کو نہ خدا جانتے ہیں
دونوں عالم تمہیں محبوبِ خدا جانتے ہیں
اپنی ہستی جو ترے دَر پہ مٹا جانتے ہیں
نہ اَدب اور نہ تری مَدح و ثنا جانتے ہیں
میرے داتا مرے مولیٰ مجھے ٹکڑا مل جائے
وصل و فرقت کا کوئی حال تو ان سے پوچھے
آنکھوں والوں کو نظر آتے ہیں ان کے جلوے
اَصل کو چھوڑ کے کس واسطے شاخیں پکڑیں
یارسولِ عربی کیوں نہ رکھیں وِردِ زبان
سر ہے کعبہ کی طرف دل ہے تمہاری جانب
جانِ عیسیٰ ترے اِعجاز کا کہنا کیا ہے
تیرے زوَّار کو رہبر کی ضرورت کیا ہے
کیوں بھٹکتے پھریں سرکار کے بندے دَر دَر
دَرِ اَقدس پہ تمہارے جو پڑے رہتے ہیں
قبر و محشر سے ڈریں کس لیے عاصی ان کے
حق نے تم کو دیا تم بانٹتے ہو عالم میں
بے ادب دشمنِ دِیں محفلِ میلاد ہے یہ
بے بصر ان کی وَجاہت کو بھلا کیا جانے
عَالِمُ الْغَیْبِ فَلَا یُظْھِرُ آیت پڑھ لو
عَالِمُ الْغَیْب نے ہر غیب سکھایا ان کو
آیۂ عَلَّمَکَ ہے مرے دعوے کی دلیل
سامنے ان کے دوعالم ہیں مثالِ کفِ دَست
اَولیا کے لیے فرماتے ہیں مولانا روم
ہم یہ کب کہتے ہیں ذاتی ہے علومِ سرکار
علم سرکار ہے حادِث تو خدا کا ہے قدیم
اس کو جو شرک بتاتے ہیں وَہابی مرتد
دَوْلَۃُ الْمَکِّیَہ نے ان پہ قیامت توڑی
مژدۂ نار سنا ان کو جمیلؔ رضوی
— Jamil Ur Rehman Qadri\
