ہر جگہ ہیں جلوہ گستر دیکھ لو
اُن کا جلوہ ہر جگہ موجود ہے
عرش و فرش و لامکاں ہی میں نہیں
اس قدر رکھو تصوّر ہر گھڑی
رُویت حق کی تمنا ہے اگر
چودھویں کا چاند بھی شرمائے گا
خلد آئے گی منانے کے لیے
چاہتے ہو گر رہے باقی نشاں
یوں مُنادی حشر میں دے گا ندا
پیاس سے باہر زبانیں آگئیں
عرش و فرش ولا مکاں سب مِلک ہیں
عرضِ حاجت کی ضرورت ہی نہیں
ہے پھنسا غم میں جمیلؔ قادری
— Jamil Ur Rehman Qadri\
