یاشَہَنشاہِ اُمَم! چشمِ کرم
آگیا اب تو مدینہ ہو عطا
ٹھوکریں در در کی کھائیں کب تلک
چاند سے چِہرے کو چمکاتے ہوئے
فالتو باتوں کی عادت دور ہو
نفس کا زُنَّار توڑو جس طرح
کربلا والوں کا صَدقہ یانبی!
وِردِ لب ہر دم دُرُودِ پاک ہو
واسِطہ آقا! ضِیاءُ الدّین کا
یانبی! ذِکرِ مدینہ ہی رہے
میرا سینہ ہو مدینہ یانبی! کاش
گنبدِ خَضرا کے جلوے آنکھ میں
یانبی! ’’نیکی کی دعوت‘‘ کی تڑپ
سارے دیوانوں کو طیبہ لو بُلا!
موت آئے کاش! طیبہ میں مجھے
دو بقیع آقا بقیع اب تو بقیع
اب سِرہانے آئیے یامصطفٰے
حَشر ہے نامہ گناہوں سے ہے پُر
لکھ سکے عطّارؔ نعتیں آپ کی
— Unknown
