ہمارے سر پہ ہے سایہ فگن رحمت محمد کی
گوارا ہی نہیں عشاق کو فرقت محمد کی
زہے قسمت اِشارہ پا کے اُن کی چشمِ رحمت کا
نبی کے نام لیوا آنے والے ہیں تھکے ہارے
گنہگارو نہ گھبراؤ سیہ کارو نہ شرماؤ
اَغِثْنِیْ یَارَسُوْلَ اللہ کے نعرے ہیں محشر میں
فدا جانِ جہاں فکر دوعالم اور اکیلا دم
ملائک روکتے ہیں اس لیے اَوروں کو جنت سے
عرب والا چلا ہے بخشوانے اپنی اُمت کو
کسے معلوم ہے وہ جانیں یا ان کا خدا جانے
علومِ اَولین و آخریں کا کردیا مالک
رَسائی ہو نہیں سکتی وہاں تک عقلِ عالم کی
اِشارے سے قمر کے دو کیے سورج کو لوٹایا
بتاتا ہے یہ فرمانِ ھُوَ الْمُعْطِیْ اَنَا الْقَاسِم
فقیرو بے نواؤ مانگ لو جو کچھ ضرورت ہو
اَزَل میں نعمتیں تقسیم کیں جب حق تعالیٰ نے
فرشتو قبر میں اپنی سند ہمراہ لایا ہوں
فدا کیونکر نہ ہو جانِ جہاں اس سبز گنبد پر
ہزاروں قدسیوں کی بھیڑ ہے روضے کی جالی پر
اَجل جلدی نہ کر اتنی مَدینے آ ہی پہنچے ہیں
خلافِ اَہلسنّت سینکڑوں مذہب ہوئے پیدا
ابوجہلی کہے بدعت و لیکن ذِکرِ مولد سے
اسے بدعت سمجھتا ہے تو کیوں آتا ہے محفل میں
قیامِ ذِکر مولد میں کھڑے ہوتے ہیں منکر بھی
جمیلِؔ قادری رضوی تجھے کیوں خوفِ محشر ہو
— Jamil Ur Rehman Qadri\
