اے نگاہِ شوق کھل کر دیکھ لے دلکش سماں
اور تک پُرکیف خاموشی سے ہے چھائی ہوئی
انؐ کے روضے پر یوں سجدے کررہی ہے چاندنی
کر دیا ہے چاندنی نے، ایسا مست و شادماں
دیکھتا ہوں جس طرف، ہے ایک عالم نور کا
نور کا سیلاب ٹھاٹھیں مارتا ہے چار سو
آسماں پر چاند تارے، محوِ استغراق ہیں
ہے بدن میرا زمیں پر روح ہے افلاک پر
خلد سے آکر فرشتے بھی مزار پاک کو
مائل بندہ نوازی ہے خدا، سچ با خدا
اس حسیں منظر کو شعروں میں بیاں کیسے کروں
— Naseer Ahmer\
