تیرے جد کی ہے بارہویں غوثِ اعظم
کوئی ان کے رُتبہ کو کیا جانتا ہے
تو ہے نور و آئینۂ مصطفائی
ہوئے اَولیا ذی شرف گرچہ لاکھوں
جہاں اَولیا کرتے ہیں جبہ سائی
ترے روضۂ پاک کے دیکھنے کو
مجھے بھی بلالو خدارا کہ میں بھی
مرے قلب کا حال کیا پوچھتے ہو
جو اہل نظر ہیں وہی جانتے ہیں
ہماری بھی لِلّٰہِ بگڑی بنا دو
ہیں گھیرے ہوئے چار جانب سے دشمن
چھپالے مجھے اپنے دامن کے نیچے
وہ ہے کون سا ان کے در کا بھکاری
حسین و حسن کی تو آنکھوں کا تارا
حکومت تری نافذہ ہے کہ حق نے
تجھے سب نے جانا تجھے سب نے مانا
تو وہ ہے ترے پاک تلوے کے آگے
نہ تھے مطلقاً اَولیا جس سے واقف
تری ذات سے اے شریعت کے حامی
شریعت طریقت کے ہر سلسلے میں
سلاسل کی سب منزلوں میں ہے پھیلی
غم و رنج میں نام تیرا لیا جب
کرم گر کرو میرے مدفن میں آؤ
الٰہی ترا کلمۂ پاک مجھ کو
بسوئے جمیلؔ اَز نگاہِ عنایت
— Jamil Ur Rehman Qadri\
