ہو جاتے ہیں خود رستے ہموار مدینے کے
کیوں کر نہ فلک کو بھی اس شہر پہ رشک آئے
آنکھوں کو عطا ہوگا سرمایۂ بینائی
برسوں کی عبادت کا حاصل ہے ہر اک لمحہ
اس دور مقدس کی یادوں کے تصور میں
اے بخت رسا خوش ہو بخشش کی گھڑی آئی
بہتر ہے کسی گل سے کانٹا رہ طیبہ کا
اپنوں کا مقدر ہے عرفان کی یہ دولت
تم لاکھ مٹا ڈالو دھرتی سے انہیں لیکن
آقا کی ثناؤں میں کٹ جائے سفر اچھا
اے دیو ہوس مجھ پر کیا زور چلے تیرا
پھر اس کو نہیں رہتی حسرت کسی منظر کی
ہے طرفہ مزاج ان کا دیدار علاج ان کا
یہ آب نجس اٹھوا یہ جام و سبو لے جا
اس آس پہ بیٹھا ہوں مدت سے نصیرؔ اب تک
— Muhammad Hanif Nazish\
