مَظْہَرِعظمتِ غفّار ہیں غوثِ اعظم
واقفِ حکمت و اَسرار ہیں غوثِ اعظم
نائبِ احمدِ مختار ہیں غوثِ اعظم
گر فَقَط آپ کے اَخیار ہیں غوثِ اعظم
میرے مرشِد مِری سرکار ہیں غوثِ اعظم
نہ مخالف فَقَط اغیار ہیں غوثِ اعظم
حشر تک گائیں گے ہم گیت تمہارے مرشد
دودھ ماں کا نہ پیا آپ نے رمضانوں میں
تم نے مُردوں کو جِلایا ہے ہمارے دل بھی
منہ لگاتا نہیں دنیا میں جسے کوئی بھی
کھوٹے سکّے جہاں چل جا تے ہیں وہ ہے بغداد
مال و دولت کی طلب ہم کو نہیں ہے مُرشِد
راہ بھولا، مجھے یاغوث! سہارا دے دو
شاہِ بغداد اِدھر بھی ذرا چشمِ رحمت
چار جانب سے گناہوں نے ہمیں گھیرا ہے
اب دعا کیلئے ہاتھ اپنے اٹھا دو مرشد !
اب اٹھا بھی دو نِقاب اپنے رُخِ انورسے
ہو کرم! حُسنِ عمل آہ! نہیں ہے کوئی
حشر کے روز ہماری بھی شَفاعت کرنا
اپنے عطّارؔ کو چُمکار کے دیجے ٹکڑا
— Unknown
