مجھ پہ چشمِ شِفا کیجئے
آہ! عِصیاں کی طُغیانیاں
ہو گیا قلب ہائے سیاہ
کوشِشوں سے بھی چُھٹتے نہیں
ہائے!عِصیاں نے توڑی کمر
مال کے جال میں پھنس گیا
بارِ عصیاں تلے دب گیا
دردِعِصیاں سے مجھ کو شِفا
قلب پتّھر سے بھی سخت ہے
چارہ گرچھوڑ کر چل دیئے
جگمگا دیجے قلبِ سیاہ
اب گناہوں کی عادت چُھٹے
اب کرم سُوئے خَستہ جگر
چاند چِیرا تھا جُوں ، سُوئے دل
حُبِّ دنیا کی مستی سُوار
چشمِ رَحمت حبیبِ خدا
یانبی! آپ ہی کچھ علاج
راہ بھولا چُھٹا کارواں
دین پر استِقامت عطا
از طفیلِ رضا کیجئے
مثلِ بِسمل تڑپتا رہوں
سنَّتوں کی بہاریں
بھائیو! گر سُکوں چاہئے
دین کے واسِطے دیکے وقت
سُنّتیں سیکھنے کیلئے
چاہتے ہو کہ راضی ہو رب
ان کی یادوں میں کھو جائیے
مجھ کو آقا عطا اپنا عِشق
اہلِ ایماں کو فیشن سے پاک
کاش! عطارؔ کی مغفِرت
— Unknown
