دو جہاں میں کوئی تم سا دوسرا ملتا نہیں
ہے رگِ گردن سے اَقْرَب نفس کے اندر ہے وہ
آبِ بحرِ عشقِ جاناں سینہ میں ہے موجزن
آبِ تیغِ عشقِ پی کر زندۂ جاوید ہو
ڈوب تو بحرِ فنا میں پھر بقا پائے گا تو
دنیا ہے اور اپنا مطلب بے غرض مطلب کوئی
ذَرَّہ ذَرَّہ خاک کا چمکا ہے جس کے نور سے
ذَرَّہ ذَرَّہ سے عیاں ہے ایسا ظاہر ہو کے بھی
جو خدا دیتا ہے ملتا ہے اسی سرکار سے
کیا علاقہ دشمنِ محبوب کو اللہ سے
کوئی مانگے یا نہ مانگے ملنے کا دَر ہے یہی
رہنماؤں کی سی صورت راہ ماری کام ہے
اہلے گہلے ہیں مشائخ آج کل ہر ہر گلی
ہیں صفائے ظاہری کے سازو ساماں خوب خوب
بر زباں تسبیح و در دل گاؤخر کا دور ہے
بس یہی سرکار ہے اس سے ہمیشہ پائیں گے
دور ساحل موج حائل پار بیڑا کیجئے
وَصلِ مولیٰ چاہتے ہو تو وسیلہ ڈھونڈ لو
دامنِ محبوب چھوڑے مانگے خود اللہ سے
ذَرَّہ ذَرَّہ قطرہ قطرہ سے عیاں پھر بھی نہاں
طائر جاں کی طرح دِل اُڑ کے جا بیٹھا کہاں
دَہریہ اُلجھا ہوا ہے دَہر کے پھندوں میں یوں
علم صانع ہوتا ہے مصنوع سے لیکن اسے
نعمتِ کونین دیتے ہیں دوعالم کو یہی
سب سے پھر کر آئے ہیں اب شاہِ والا کے حضور
دَرد مندی کے لیے آدم سے تا عیسیٰ گئے
جن سے امیدِ کرم تھی دے دیا سب نے جواب
یاس کا عالم ہے سب سے آس توڑے آئے ہیں
جل رہے ہیں پھنک رہے ہیں عاشقانِ سوختہ
وہ ہیں خورشید رسالت نور کا سایہ کہاں
دشمنِ جاں سے کہیں بدتر ہے دشمن دِین کا
قاسم نعمت سے ہم مانگیں تو نجدی یوں بکیں
مُصْطَفٰی مَا جَآئَ اِلَّا رَحْمَۃً لِّلْعٰلَمِیْن
خود خدا بے واسطہ دے یہ ہمارا منہ کہاں
ہم تو ہم وہ انبیاء کے بھی لیے ہیں واسطہ
اَنبیاء بعض اَولیاء فائز ہیں اس سرکار میں
دونوں عالم پاتے ہیں صدقہ اسی سرکار کا
زَن زَمین و زَور اور زَر کے ہیں گاہک ہر کہیں
چارزا اِک ذال کے بدلے میں لیں چوکس رہے
دادِ دُنیا کیسا اُف سنتے نہیں فریاد بھی
باپ ماں بھائی بہن فرزَندو زَن اِک اِک جدا
جو محب کی چیز ہے محبوب کے قبضے کی ہے
دِل ستانی کرنے والے ہیں ہزاروں دِلربا
دِل گیا اچھا ہوا اس کا نہیں غم غم ہے یہ
محی سنت حامی ملت وہ مجدد دِین کا
بے نوا کو بے صدا ملتا ہے اس سرکار سے
کس طرح ہو حاضرِ دَر نوریؔٔ بے پر شہا
— Mustafa Raza Khan Noori\
