اندھیری رات ہے غم کی گھٹا عصیاں کی کالی ہے
نہ ہو مایوس آتی ہے صَدا گورِ غریبَاں سے
اُترتے چاند ڈھلتی چاندنی جو ہو سکے کر لے
ارے یہ بھیڑیوں کا بن ہے اور شام آگئی سر پر
اندھیرا گھر، اکیلی جان، دَم گُھٹتا، دِل اُکتاتا
زمیں تپتی، کٹیلی راہ، بَھاری بوجھ، گھائل پاؤں
نہ چَونکا دن ہے ڈھلنے پر تری منزل ہوئی کھوٹی
رضاؔ منزل تو جیسی ہے وہ اِک میں کیا سبھی کو ہے
— Ala Hazrat Imam Ahmed Raza Khan Barelvi\
