مدینے کی طرف پھر کب روانہ قافِلہ ہوگا
یقینا روزِ محشر صِرف اُسی سے خوش خدا ہوگا
وُہی سَر بَر سرِ محشر بُلندی پائے گا جو سر
کوئی ہفتہ نہ کوئی دن کوئی گھنٹا تو کیا افسوس
نہیں جاتی گناہوں کی شہا! عادت نہیں جاتی
فَقَط نیکوں پہ ہوگا گر کرم اے سروَرِعالم!
تِرے رَحم و کرم پر آس میں نے باندھ رکھی ہے
نبی کے عاشِقوں کو موت تو انمول تحفہ ہے
اندھیری گور ہے تنہا ہوں مجھ پر خوف طاری ہے
فِرِشتے قبر میں پوچھیں گے جب مجھ سے سُوال آکر
نبی کے عاشِقوں کی عید ہوگی عید محشر میں
ترے دامانِ رَحمت کی کُھلے گی حشر میں وُسعت
تسلّی رکھ تسلّی رکھ نہ گھبرا حشر سے عطارؔ
نہ گھبرا موت سے عطارؔ بَرزَخ میں تُو مِل لینا
— Unknown
