مجھ کو آقا مدینے بلانا، سبز گنبد کا جلوہ دکھانا
آناآنا مِرے سرور آنا، آکر آنکھوں میں میری سمانا
اب گھڑی ہائے!رخصت کی آئی،ماہِ رَمضاں سے ہوگی جدائی
واسِطہ لاڈلی فاطِمہ کا،واسِطہ غوث و احمدرضا کا
گو گنہگار بھی ہوں تو تیرا گر چِہ بدکار بھی ہوں تو تیرا
رخصت اب ماہِ رَمضان کی ہے عید یامصطَفٰی آگئی ہے
عزم داڑھی کا جب سے کیاہے جب سے سر پرعمامہ سجا ہے
ہوگیا جُرم سنّت پہ چلنا اور اُلفت میں تیری مچلنا
تُوٹَھَہر جا ذرا روحِ مُضطَر آنیوالا ہے میٹھا مدینہ
جلد دفناؤ میِّت خدارا کُھل نہ جائے کہیں بھید سارا
ہجرمیں جو تڑپتے ہیں آقا یادِ طیبہ میں روتے ہیں آقا
دشمنِ دیں اکڑ کر کھڑا ہے حاسِدوں کا حَسَد بڑھ چلاہے
— Unknown
