قافِلہ آج مدینے کو روانہ ہوگا
لب پہ نغماتِ محمد کا ترانہ ہوگا
کس قَدَر زائرو! وہ وقت سُہانا ہوگا
درد و آلام کا جب لب پہ فَسانہ ہوگا
نیکیاں پلّے مدینے کے مسافِر کے کہاں !
اِتنی بے تاب نہ ہو آنے دے طیبہ کی گلی
گنبدِ خَضرا کی جس وقت میں دیکھوں گا بہار
جب سُوالات، نکیرین کریں گے مجھ سے
حشر میں جب ہمیں سرکار نظر آئیں گے
تجھ کو گر رُتبۂ عالی کی طلب ہے بھائی!
اُن کی دَہلیز پہ سر اپنا جُھکا دے بھائی!
بھائیو! چاہئے گر ربِّ محمد کی رِضا
میری سرکار کے قدموں میں ہی اِن شاءَ اللہ
اِس برس بھی نہ مدینے میں اگر آئی موت
— Unknown
