اُن کی یاد میں رہتا ہوں اور مجھے کچھ کام نہیں
اُنکی یاد کا احساس ہے فکرِ صبح و شام نہیں
ہم نے تو دیکھی ہی نہیں صورت ہی ناکامی کی
جتنا جس کا ظرف طلب ویسا اس کا پیمانہ
ہو سُو جا کےدیکھ لیا بربادی مایوسی ہے
یہاں تک محدود نہیں ہےان کا جلوہ اے واعظ
جس کو ان کا درد ملا ساری کائنات ملی
میرے تڑپنے کی خالدؔ اُن کو خبر ہو جاتی ہے
— Khalid Mehmood Khalid\
