جس نے دکھایا طیبہ و قبلہ تم ہی تو ہو
اَہلِ نظر کے تم ہی تو ہو مطمحِ نظر
تم وارثِ علومِ حبیبِ اِلٰہ ہو
اس گلستانِ دِین کی تم ہی بہار ہو
دیں کے نعیم ، مظہرِ شانِ معین ہو
سب اَہلِ عقل صدرِ اَفاضل نہ کیوں کہیں
ہے نجدیوں کے قلب میں آرا تمہاری ذات
تقریر جس کی قہر الٰہی عدو پہ ہے
جس کا قلم کہ نیزۂ باطل شکن بنا
ہم سب تھے جہل کی شبِ تاریک میں پھنسے
دل کی مراد آپ کی خوشنودیٔ مزاج
— Hakeem Ul Umat Mufti Ahmed Yar Khan Naeemi\
