کیا مہکتے ہیں مہکنے والے
جگمگا اُٹھی مِری گور کی خاک
مہِ بے داغ کے صَدقے جاؤں
عرش تک پھیلی ہے تابِ عارِض
گلِ طیبہ کی ثنا گاتے ہیں
عاصیو! تھام لو دامن اُن کا
ابر رحمت کے سَلامی رہنا
ارے یہ جلوہ گہِ جاناں ہے
سُنّیو! ان سے مَدَد مانگے جاؤ
شمع یادِ رُخِ جاناں نہ بجھے
مَوت کہتی ہے کہ جلوہ ہے قریب
کوئی اُن تیز رووں سے کہہ دو
دل سُلگتا ہی بھلا ہے اے ضبط
ہم بھی کمھلانے سے غافِل تھے کبھی
نخل سے چھٹ کے یہ کیا حال ہوا
جب گِرے مُنھ سُوئے میخانہ تھا
دیکھ اَو زَخمِ دِل آپے کو سنبھال
مے کہاں اور کہاں میں زاہد
کفِ دریائے کرم میں ہیں رضاؔ
— Ala Hazrat Imam Ahmed Raza Khan Barelvi\
