دِل اس ہی کو کہتے ہیں جو ہو ترا شیدائی
کیوں جان نہ ہو قرباں صدقہ نہ ہو کیوں اِیماں
خلقت کے وہ دُولہا ہیں محفل یہ انہی کی ہے
یاشاہِ رُسل چشمے بر حالِ گدائے خود
بے مثل خدا کا توبے مثل پیمبر ہے
آقاؤں کے آقا سے بندوں کو ہو کیا نسبت
سینہ میں جو آجاؤ بن آئے مرے دل کی
دل تو ہو خدا کا گھر سینہ ہو ترا مسکن
اس طرح سما مجھ میں ہوجاؤں میں گم تجھ میں
اس سالکِؔ بیکس کی تم آبرو رکھ لینا
— Hakeem Ul Umat Mufti Ahmed Yar Khan Naeemi\
