پھر اُٹھا وَلولۂ یادِ مُغِیلانِ عرب
باغِ فردوس کو جاتے ہیں ہزارانِ عرب
میٹھی باتیں تِری دینِ عجم ایمانِ عرب
اب تو ہے گریۂ خوں گوہر دامانِ عرب
دل وہی دل ہے جو آنکھوں سے ہو حیرانِ عرب
ہائے کس وقت لگی پھانس اَلم کی دل میں
فَصْلِ گل لاکھ نہ ہو وَصْل کی رکھ آس ہزا ر
صدقے ہونے کو چلے آتے ہیں لاکھوں گُلزار
عَنْدَلِیْبِی پہ جھگڑتے ہیں کٹے مَرتے ہیں
صدقے رحمت کے کہاں پھول کہاں خار کا کام
شادیَ حشر ہے صَدْقے میں چھٹیں گے قیدی
چرچے ہوتے ہیں یہ کمھلائے ہوئے پھولوں میں
تیرے بے دام کے بندے ہیں رئیسانِ عجم
ہَشْت خلد آئیں وہاں کسب لطافت کو رضاؔ
— Ala Hazrat Imam Ahmed Raza Khan Barelvi\
