سر سوئے روضہ جھکا پھر تجھ کو کیا
بیٹھتے اُٹھتے مدد کے واسطے
یا غَرض سے چھٹ کے محض ذکر کو
بے خودی میں سجدۂ در یا طواف
ان کو تَمْلِیک مَلِیْکُ الْمُلْکْ سے
ان کے نامِ پاک پر دل جان و مال
یٰعِبَادِی کہہ کے ہم کو شاہ نے
دیو کے بندوں سے کب ہے یہ خطاب
لَا یَعُوْدُوْنْ آگے ہو گا بھی نہیں
دشتِ گِرد و پیشِ طَیبہ کا ادب
نَجدی مرتا ہے کہ کیوں تعظیم کی
دیو تجھ سے خوش ہے پھر ہم کیاکریں
دیو کے بندوں سے ہم کو کیا غرض
تیری دوزخ سے تو کچھ چھینا نہیں
— Ala Hazrat Imam Ahmed Raza Khan Barelvi\
