درِ احمد پہ اب میری جبیں ہے
مجھے کل اپنی بخشش کا یقیں ہے
میں ہوں اور یادِ سرکارِ مدینہ
بہاریں یوں تو جنت میں ہیں لاکھوں
میں وصف ماہِ طیبہ کر رہا ہوں
عبث جاتا ہے تو غیروں کی جانب
گنہگارو! نہ گھبرائو کہ اپنی
فریب نفس میں ہمدم نہ آنا
ذرا آہستہ چل او چلے والے
دلِ بیتاب سے اخترؔ یہ کہہ دو
— Mufti Akhtar Raza Khan Qadri Azhari\
