طوبے میں جو سب سے اُونچی نازُک سیدھی نکلی شاخ
مولیٰ گُلْبُن، رحمت زہر ا،سِبْطَیناس کی کلیاں پُھول
شاخِ قامت شہ میں زلف و چشم و رخسار و لب ہیں
اپنے اِن باغوں کا صدقہ وہ رحمت کا پانی دے
یادِ رُخ میں آہیں کر کے بن میں میں رویا آئی بہار
ظاہر و باطن اَوّل و آخر زیب فروع و زَین اُصول
آلِ احمد خُذْ بیَدِیْ یا سَیّد حمزہ کن مَددی
— Ala Hazrat Imam Ahmed Raza Khan Barelvi\
