جھکے نہ بارِ صد احساں سے کیوں بنائے فلک
یہ خاکِ کوچۂ جاناں ہے جس کے بوسہ کو
عفو و عظمت خاکِ مدینہ کیا کہئے
یہ ان کے جلوے کی تھیں گرمیاں شب اسری
قدم سے ان کے سر عرش بجلیاں چمکیں
میں غم نصیب بھی تری گلی کا کتا ہوں
یہ کس کے در سے پھرا ہے تو نجدیٔ بے دیں
جو نام لے شہِ عرشِ بریں کا تو اخترؔ
— Mufti Akhtar Raza Khan Qadri Azhari\
