پڑے مجھ پر نہ کچھ اُفتاد یاغوث
اُڑے تیری طرف بعد فنا خاک
مِرے دل میں بسیں جلوے تمہارے
نہ بھولوں بھول کر بھی یاد تیری
مُرِیْدِیْ لَا تَخَف فرماتے آؤ
گلے تک آ گیا سیلاب غم کا
نشیمن سے اُڑا کر بھی نہ چھوڑا
خمیدہ سر گرفتارِ قضا ہے
اندھیری رات جنگل میں اکیلا
کھلا دو غنچۂ خاطر کہ تم ہو
مِرے غم کی کہانی آپ سن لیں
رہوں آزاد قید عشق کب تک
کرو گے کب تک اچھا مجھ بُرے کو
غمِ دنیا غمِ قبر و غمِ حشر
حسنؔ منگتا ہے دیدے بھیک داتا
— Hassan Raza Khan Barelvi\
