آخری وقت میں کیا رونقِ دنیا دیکھوں
از اُفق تا بہ اُفق ایک ہی جلوہ دیکھوں
عاقبت میری سنور جائے جو طیبہ دیکھوں
میں کہاں ہوں ، یہ سمجھ لوں تو اٹھاؤں نظریں
میں نے جن آنکھوں سے دیکھا ہے کبھی شہرِ نبی
بعد رحلت بھی جو سرکار کو محبوب رہا
فقر و فاقہ ہی رہا جس کے مکینوں کا نصیب
جالیاں دیکھوں کے دیوار و در و بامِ حرم
میرے مولا مری آنکھیں مجھے واپس کر دے
جن گلی کوچوں سے گزرے ہیں کبھی میرے حضور
تاکہ آنکھوں کا بھی احسان اٹھانا نہ پڑے
کاش اقبالؔ یوں ہی عمر بسر ہو میری
— Unknown
