جنابِ مصطفیٰ ہوں جس سے نا خوش
شہِ کونین نے جب صدقہ بانٹا
سلاطیں مانگتے ہیں بھیک اس سے
پسند حق تعالیٰ تیری ہر بات
مٹیں سب ظاہر و باطن کے اَمراض
فَتَرْضٰی کی محبت کے تقاضے
ہزاروں جرم کرتا ہوں شب و روز
الٰہی دے مِرے دل کو غم عشق
نہیں جاتیں کبھی دَشت نبی سے
مدینے کی اگر سرحد نظر آئے
نہ لے آرام دَم بھر بے غم عشق
نہ تھا ممکن کہ ایسی معصیت پر
تمہاری روتی آنکھوں نے ہنسایا
الٰہی دھوپ ہو ان کی گلی کی
حسنؔ نعت و چنیں شیریں بیانی
— Hassan Raza Khan Barelvi\
