Mah Seema Hai Ahmed Noori (Naat) | Best Naat Lyrics in Urdu | Naat Lines

ماہ سیما ہے اَحْمدِ نوری

نور والا ہے اَحْمدِ نوری

نہ کھلا کیا ہے اَحْمدِ نوری

دُور پہنچا ہے اَحْمدِ نوری

نور سینہ ہے اَحْمدِ نوری

وَصف اَجْلٰی ہے اَحْمدِ نوری

عہدِ اَوفی ہے اَحْمدِ نوری

جلب تقویٰ ہے اَحْمدِ نوری

نجم سے ماہ مَہ سے مِہر ہوا

مہر سے ماہ مَہ سے نجم ہوا

اُس کے مُدرَک ہیں فوقِ طبیعات

برکاتی جہاں جمی ہو برات

شمس دیں کی شعاؤں کا تیرے

تار اَنظار مرحمت سے بُنا

رُشد و اِرشاد کا ترے سر پر

قادِریت ہے چشتیت سے بہم

رَفع قومہ میں وَضع سجدے میں

ذِکر ایسا کہ کلمہ کی اُونگلی

قومہ سیدھا رکوع دوہرا ہے

محض اِثبات کا مقامِ بلند

میرا مرشد ہے مصحف ناطِق

مہبط فضل شیخ تا برکات

حرمین اس کے پیرو اعلی پیر

اِسم اَسمٰی ترا تَعَا َلی ا للّٰہ

آسماں سے اُترتے ہیں اَسماء

نام بھی نور حسن تام بھی نور

نورِ سرکارِ ذات دُونا ہے

کیجئے عکس مثل کہ ناشئہ کا

قرب اس اعلیٰ سے ہے تجھے جس کا

لا ؤ لد رہتے ہیں تمام اَبدال

پسر و نَبَسَۂ و نبیرۂ نور

اس کی سی ماں جہان میں کس کی

شکل دیکھو تو نور کی تصویر

نام پوچھو تو نور کی تنویر!

اَنجمن ہو رہی مشرقِ نور

بام و دَر کی ضیا سے روشن ہے

طالبانِ حریمِ حق کے لیے

ڈَور گنڈے پہ چار عنصر کے

بند تعویذ سے کشائش نے

نقشے جمتے ہیں تیری ہمت سے

اچھے پیارے کے دل کا ٹکڑا ہے

بھولی صورت ہے نور کی مورت

گلِ بغداد کی مہک میں بسا

ابر برکات کی ٹپک میں دُھلا

ہے مصفی عسل لبوں سے رَواں

وہ عوارِفؔ کا نور بار سراج

اس کے اِرشاد ہیں دلیل یقین

اس کے لب ہیں کلید کشف قلوب

گہر بے بہائے نورؔ و بہاؔ

سید الانبیا رسول ا للّٰہ

مرجع الاولیاء علی وَلی

وہ حسینی رَچی ہوئی رنگت

زِینت زَین عابدیں سے ترا

عم اَعظم ہیں حضرتِ باقر

صادِقؔ رَفض سوز کا پرتو!

شانِ کاظمؔ دِکھا کہ َمعْدنِ علم

اے رضاؔ کے رضی رضا کے رضاؔ

فیض معروفؔ سے ترا معروف

سِر میں ساری ہے سرّ پاک ترے

سَیِّدُؔ الطَّائفہ کا طائف ہے

شبل شبلی قوم شرزا پر

عبد واحد کے بحر وحدت سے

بوالفرحؔ کے لئے فرح دیدے

حسنؔ بوالحسن پہ تیرا حسن

بوسعیدؔی سعید کتنا سعد

غوثِؔ کونین کی غلامی سے

عبدؔ رَزَّاق ہیں وَسیلۂ رِزْق

نصر و بونصرؔ اس کے نصر نصیر

تازی کوپل علیؔ کی ڈالی میں

شاہِؔ موسیٰ کے گورے ہاتھوں کا

حسنیؔ اَحْمدِی حسینؔ و حمید

دیکھ لو جلوۂ بہائُؔ الدین

گل خندانِ باغِ ابراہیمؔ

خود بھکاریؔ کے دَر کا سائل ہے

نورِ قاضی ضیا ءکے پرتو سے

اے جمالِ جمیل شانِ جمالؔ

حمد کے دونوں پاک ناموں کا

شانِ اَنوارِ فضل فضلؔ ا للّٰہ

برکاتی چمن کا بوٹا ہے

باغِ آلِ محمدی ہے نہال

رہے حمزہؔ کا میکدہ جس کی

آلِ اَحْمد ہیں مصطفی کے چاند

خسرو اَولیا ہیں آلِ رسول

میرے آقا کا لاڈلا بیٹا

شب بدعت سے کہئے ہو کافور

رفض و تفضیل و ندوہ کا قاتل

سیدھا سادھا ہے لیکن اُلٹوں سے

دیکھے بھالے ہیں شہر دَہر کے شیخ

خلفائے ثَلٰثَہ کا ہے غلام

ذائقہ ان کا تا زَباں ہی نہیں

بے تقیہ بنا کریں عیار

بے محاسن ہیں پیر چوٹی کے

یاں نہیں کفر پہ چمر توحید

کھو کے سدھ بدھ بنے سنیچر پیر

بدمَذاقوں کو تیرا شہد ہے تلخ

جلتے ہیں تیرے گرم چرچے سے

اے علم تعزیوں کے مجرے سے دُور

شبِ باطل کا اب سویرا ہے

ظلمتِ غم تو اور مجھ کو دیا ہے

تیری رحمت پہ تیری نعمت پر

جس کا میں خانہ زاد اُس کا تو

میرے آقا کا تجھ پہ اور تیرا

تیرہ بختی نے کر دیا اَندھیر

نورِ اَحْمدِ مجھے بھی چمکا دے

لاکھ اپنا بنائیں غیر اُوسے

دودھ کا دودھ پانی کا پانی

وِرَد کھو دے کہ خواہشوں نے بہت

تو ہنسا دے کہ نفس بد نے ستم

خاک ہم نے اُڑائی یوہیں سہی

خاندانی کرم قدیمی جود

پوتڑوں کا کریم اِبن کریم

میرے حق میں مخالفوں کی نہ سن

اِتنا کہدے رضاؔ ہمارا ہے

ہیں رضاؔ کیوں ملول ہوتے ہو

— Ala Hazrat Imam Ahmed Raza Khan Barelvi\