ہے لبِ عیسٰی سے جاں بخشی نِرالی ہاتھ میں
بے نواؤں کی نِگاہیں ہیں کہاں تحریر دست
کیا لکیروں میں یَدُ اللہ خط سرو آسا لکھا
جُودِ شاہِ کوثر اپنے پیاسوں کا جُویا ہے آپ
ابر نَیْساں مومنوں کو تِیْغِ عُریاں کفر پر
مالکِ کونین ہیں گو پاس کچھ رکھتے نہیں
سایہ اَفگن سر پہ ہو پرچم الہٰی جُھوم کر
ہر خطِ کف ہے یہاں اے دستِ بیضائے کلیم
وہ گراں سنگی قدرِ مَس وہ ارزانی جود
دستگیرِ ہر دو عالم کر دیا سِبطین کو
آہ وہ عالم کہ آنکھیں بند اور لب پر دُرود
جس نے بَیْعَتْ کی بہار حسن پر قرباں رہا
کاش ہو جاؤں لبِ کوثر مَیں یوں وارفتہ ہوش
آنکھ محوِ جلوۂ دیدار دل پُر جوشِ وجد
حشر میں کیا کیا مزے وارفتگی کے لُوں رضاؔ
— Ala Hazrat Imam Ahmed Raza Khan Barelvi\
