آج طیبہ کا ہے سفر آقا
غمزدہ ہوں میں کس قَدَر آقا
مجھ کو بیماریوں نے گھیرا ہے
چند اَشکوں کے ماسِوا پلّے
تاجِ شاہی کا میں ، نہیں طالِب
تیری الفت کا میں بھکاری ہوں
قلبِ مُضطَر دو چشمِ تر دو اور
چل مدینہ کا وہ بھی لیں مُثردہ
کیا عمامے کی ہو بیاں عظمت
تیرے ہوتے ہوئے بھلا کیوں ہو
اِس طرح سے چھپا لو دامن میں
مُعترِف ہوں گناہ کرنے میں
پھنس گیا ہوں گنہ کی دلدل میں
میں گنہگار ہوں مگر قرباں
واسِطہ میرے غوثِ اعظم کا
تم اُسے بھی گلے لگاتے ہو
میں جہنَّم میں گِر گیا ہوتا
کاش! نیچی نظر رہے، بے کار
جان چُھوٹے فُضُول باتوں سے
مولٰی مشکلکشا کے صدقے میں
ازپئے مرشِدی ضِیاء الدّین
کاش! اِس شان سے یہ دم نکلے
اِذن دیدو بقیعِ غَرَقد کا
کیا بنے گا بجائے طیبہ کے
موت عطارؔ کو مدینے میں
— Muhammad Ilyas Atar Qadri\
