ہم خاک ہیں اور خاک ہی مَاوا ہے ہمارا
اللہ ہمیں خاک کرے اپنی طلب میں
جس خاک پہ رکھتے تھے قدم سیِّد عالم
خم ہو گئی پشتِ فلک اس طعنِ زَمیں سے
اس نے لقبِ خاک شہنشاہ سے پایا
اے مدّعیو! خاک کو تم خاک نہ سمجھے
ہے خاک سے تعمیر مزارِ شہِ کونین
ہم خاک اڑائیں گے جو وہ خاک نہ پائی
— Ala Hazrat Imam Ahmed Raza Khan Barelvi\
