واہ کیا مرتبہ اے غوث ہے بالا تیرا
سر بھلا کیا کوئی جانے کہ ہے کیسا تیرا
کیا دَبے جس پہ حِمایت کا ہو پنجہ تیرا
تُو حُسینی حَسَنی کیوں نہ محی الدّیں ہو
قسمیں دے دے کے کھلاتا ہے پلاتا ہے تجھے
مصطفیٰ کے تن ِبے سایہ کا سایہ دیکھا
اِبنِ زَہرا کو مبارک ہو عَروسِ قدرت
کیوں نہ قاسِم ہو کہ تُو ابنِ ابی القاسم ہے
نبوی مینھ علوی فصل بتولی گلشن
نبوی ظِل عَلوی برج بتولی منزل
نبوی خُور عَلَوی کوہ بتولی مَعْدِن
بحروبرشہر و قُریٰ سہل و حُزُن دشت و چمن
حُسنِ نیّت ہو خطا پھر کبھی کرتا ہی نہیں
عرضِ اَحوال کی پیاسوں میں کہاں تاب مگر
موت نزدیک گناہوں کی تَہیں مَیل کے خول
آب آمد وہ کہے اور میں تیمم برخاست
جان تو جاتے ہی جائے گی قیامت یہ ہے
تجھ سے در درسے سگ اور سگ سےہےمجھکونسبت
اس نشانی کے جو سگ ہیں نہیں مارے جاتے
میری قسمت کی قَسَم کھائیں سگانِ بغداد
تیری عزّت کے نثار اے مِرے غیرت والے
بد سہی، چور سہی، مجرم و ناکارہ سہی
مجھ کو رُسوا بھی اگر کوئی کہے گا تو یوں ہی
ہیں رضاؔ یُوں نہ بلک تو نہیں جَیِّتو نہ ہو
فخرِ آقا میں رضاؔ اور بھی اِک نظمِ رفیع
— Ala Hazrat Imam Ahmed Raza Khan Barelvi\
